کراچی: (بیورورپورٹ)نئے صوبوں کے معاملے پر پر ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی آمنے سامنے،ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری،تنقید کے نشتر برسادئیے۔
وزیر صحت و ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا نئے صوبوں کے مخالفین میں کچھ ایسے لوگ جو پاکستان کو نہیں مانتے ،باقی اپنے مفادات کےلئے نئے صوبوں کی مخالفت کررہے ہیں،نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی،پاکستان توڑنے نہیں ،جوڑنے کی بات کر رہے ہیں، کراچی میں بچوں کا گٹروں میں گر کر مرناظلم نہیں؟ اندرون سندھ بھی صورتحال کراچی سے زیادہ خراب ،لوگوں کو پینے کا پانی تک دستیاب نہیں،سندھ کے عوام کو سندھی اور مہاجر کے تعصب میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہاپیپلز پارٹی کا فلسفہ ہی ”پاکستان کھپے“ ہے، سندھ کو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی خواہش رکھنے والے ملک کو جوڑنے کا دعویٰ نہ کریں، سیاسی مصلحتوں کے تحت چہرہ بدلنے والے سندھ کی تقسیم کے خواب دیکھ رہے ہیں،ایم کیو ایم کا ماضی نفرتوں کی سیاست سے عبارت اب کسی نئے روپ میں سندھیوں ، مہاجروں کو لڑانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل نے کہاکراچی کو بندوق کے سائے میں رکھنے والے جمہوریت ،آئینی ترامیم پر درس دینے کے لائق نہیں رہے،لندن سے لے کر کراچی تک کی تاریخ گواہ ہے کس نے شہر کا امن ،روزگار اپنے ہاتھوں سے برباد کیا،18ویںترمیم کےخلاف ہرزہ سرائی دراصل چھوٹے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔
نئے صوبوں پر ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی آمنے سامنے،ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری

















