اسلام آباد (مشرق نیوز) پاکستان میں ہرسال ریبیز سے 3 ہزار سے 5 ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ کتے کے کاٹے کو معمولی سمجھنا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مرض کا علاج تقریباً ناممکن ہے تاہم بروقت ویکسین اور درست علاج سے جان بچائی جاسکتی ہے۔
ایک معمولی سی خراش اور زندگی ہاتھوں سے جانے کا خطرہ، پوری دنیا آج ریبیز سے بچاو¿ کیلئے آگاہی کا دن منا رہی ہے۔ ریبیز ایسی خطرناک وائرل بیماری ہے، جو متاثرہ جانور کے کاٹنے، خراش یا لعاب کے ذریعے بھی انسان میں منتقل ہوسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً 59 ہزار لوگوں کی اموات ریبیز کے باعث ہوتی ہیں۔ پاکستان میں انسانوں میں ریبیز پھیلنے کے تقریباً 99 فیصد واقعات کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔
ڈاکٹر ممتاز خان کا کہنا ہے کہ 99 فیصد زیادہ ریبیز کیسز کتے کاٹنے سے ہوتے ہیں۔ جو باقی جانور ہیں جیسے گیڈر، بندر اور گھریلو جانور جو ہیں ان سے بھی انسانوں میں یہ جراثیم منتقل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں ہرسال ہزار سے 5 ہزار اموات اس سے واقع ہوتے ہیں۔بیماری کا اثر ہوجائے تو پھر اس سے بچاو ممکن نہیں ہے۔
ماہرین کہتے ہیں اگر کتا کاٹ لے تو ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں، زخم کو فوراً صابن اور صاف پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھوئیں اور بلاتاخیر طبی مرکز پہنچیں اور ریبیز ویکسین لگوائیں۔ یاد رکھیں علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ خاص دن کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کرنا ہوگا کہ ریبیز سے بچاو¿ کیلئے صرف حکومت کو ہی نہیں، نجی اداروں اور عوام کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔
ریبیز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد اموات، بچاو کیسے ممکن ؟



















