لاہور(نمائندہ خصوصی) ایڈمنسٹریٹر داتا دربارکا اہم اقدام، محکمانہ رٹ برقرار رکھنے کا عزم کرتے ہوئے شرائط کی بلا وجہ خلاف ورزی کرنے ،مجازاتھارٹی کی جانب سے جاری شدہ تفصیلی فیصلہ کی روشنی میںبابت ادائیگی بقایا تین اقساط جمع نہ کروانے اور محکمہ ہذا کے خلاف مقدمہ بازی کرنےکی پاداش داتا دربارکا حفاظت پاپوش کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا۔ملکی اور محکمہ اوقاف پنجاب کی تاریخ میںراﺅ فضل الرحمن کے بعد محمد علی خان دوسرے ایڈمنسٹریٹر داتا دربار ہیں جنہوں نے کسی قسم کا کمپرومائز کرنے کی بجائے حفاظت پاپوش کا ٹھیکہ نیلام کرنے کا فیصلہ کرنےکی ہمت دکھائی ہے۔ روزنامہ ”مشرق“ نے مذکورہ احکامات کی دستاویزات حاصل کر لیں۔ ایڈمنسٹریٹر داتا دربار محمد علی خان کی جانب سے جاری احکامات میں قرار دیا گیا ہے کہ دربار حضرت داتا گنج بخش سے ملحقہ ٹھیکہ حفاظت پاپوش عرصہ ایک سال از مورخہ یکم جولائی 2025ءتا 30جون2026ءمسمی رانا رفاقت علی ولد رانا محمد سعید (ذیشان انٹر پرائزز)نے بعوض مبلغ 8کروڑ 71لاکھ50ہزار روپے میں تاریخ نیلام 11جون2025ءکو نیلام عام میں حاصل کیا۔ حسب شیڈول کل رقم ٹھیکہ کا 25 فیصد مبلغ 2کروڑ 17لاکھ87ہزار5صد روپے برموقع نیلام داخل خزانہ اوقاف کروائے گئے۔ بقیہ رقم 7مساوی اقساط میں کنٹریکٹرمذکور کی جانب سے بمعہ انکم ٹیکس میں جمع کروائی جانی تھی۔ 15دسمبر 2025ءکے ہونیوالے اجلاس کے فیصلہ کی روشنی میں داتا دربار کمپلیکس کی از سرنو تعمیر کی وجہ سے گیٹ نمبر 1 اور گیٹ نمبر 2 کو زائرین کیلئے بند کرتے ہوئے گیٹ نمبر1 کے متبادل گیٹ نمبر 5-Aاور گیٹ نمبر 2کے متبادل گیٹ نمبر 3,3A کو کھول دیا گیا ،ان تینوں گیٹس کے ذریعے زائرین مزار شریف میں داخل ہو کرحاضری و سلام پیش کررہے ہیں۔ اکتوبر 2025ءتک کنٹریکٹر مذکور نے مبلغ 5کروڑ 91لاکھ70ہزار روپے داخل خزانہ اوقاف کروائے۔ اسکے بعد مورخہ 4 دسمبر 2025ءکو بقیہ رقم تین کی بجائے پانچ مساوی اقساط میںوصول کرنے کیلئے درخواست گزاری۔ موصولہ درخواست کی مندرجات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے کنٹریکٹر کو ریلیف دیتے ہوئے بقیہ رقم تین کی بجائے پانچ اقساط میں وصول کرنے کی اجازت فرما دی جن میں سے پہلی قسط مورخہ 10 دسمبر 2025ءکو مبلغ 60 لاکھ روپے اور مورخہ 5 جنوری 2026ءکو دوسری قسط مبلغ 52 لاکھ 2 ہزار 500 روپے داخل خزانہ اوقاف کروائی۔ اسکے بعد کنٹریکٹر مذکور نے ادائیگی قسط سے لیت ولعل سے کام لینا شروع کردیا اور ساتھ ہی ٹھیکہ فری چلانے کی درخواستیں دینا شروع کردیں۔ انتظامیہ اوقاف داتا دربار نے اسکو اقساط کی عدم ادائیگی کی وجہ سے نوٹس جاری کئے اور اسکی جانب سے موصولہ فری ٹھیکہ چلانے کیلئے گزاری گئی درخواستوں کو داخل دفتر کرنے کی سفارش کی جاتی رہی۔ اوقاف کی جانب سے کسی بھی قسم کا فری ٹھیکہ چلانے کا ریلیف نہ ملنے پر کنٹریکٹر مذکور نے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر 5759/26 بعنوان رانا رفاقت علی بنام صوبہ پنجاب دائر کردی۔ تاریخ سماعت مورخہ 23 فروری2026ءکو عدالت عالیہ نے پٹیشن خارج کرتے ہوئے اتھارٹی مجاز کو فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ کردی۔ سیکرٹری/ چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب نے بعدازاں سماعت کنٹریکٹر مذکور کی جانب سے طلبیدہ ریلیف کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بقیہ رقوم اقساط وصول کرنے کا مورخہ 24 مارچ 2026ء کو حکم سنایا۔ اس حکم کے بعد 25 مارچ 2026ءکو کنٹریکٹر نے نئی رٹ پٹیشن نمبر 18076/26 بعنوان رانا رفاقت علی بنام صوبہ پنجاب دائر کردی جس کی مورخہ 30 اور 31 مارچ2026ءکو سماعت ہوئی۔ اس پٹیشن میں عدالت عالیہ کی جانب سے کسی قسم کا کوئی حکم امتناعی جاری نہ ہوا۔ بقایا اقساط کی وصولی کیلئے انتظامیہ داتا دربار کی جانب سے بارہا رابطہ کرنے پر کنٹریکٹر نے مورخہ 27 مارچ 2026 ءکو ایک کراس چیک نمبری 1564837434 اکاﺅنٹ ٹائٹل”ذیشان انٹرپرائزز“ ایڈمنسٹریٹر اوقاف دربار حضرت داتا گنج بخش کے نام کا فراہم کیا جو مورخہ 30 مارچ 2026ءکو اکاﺅنٹ میں رقم ناکافی ہونے کی وجہ سے ڈس آنر ہوگیا۔ اپنے اکاﺅنٹ میں رقم ناکافی ہونے کے باوجود اس نے محکمہ کیساتھ دھوکہ دہی سے کام لیا۔ اسکے اس فعل کی وجہ سے اسکے خلاف تھانہ میںعلیحدہ سے حسب قواعدکارروائی جاری ہے لہذا کنٹریکٹر مذکور نے محکمہ ہذا کے ساتھ طے شدہ معاہدہ بذریعہ اشٹام پیپر نمبر PB-LHR-098225A22AC387FC مالیتی 15 ہزار روپے کی متعدد شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ فریق دوم سے سالم رقم زر ٹھیکہ کا 25 فیصد موقع پر وصول کیا جائیگا۔
ایڈمنسٹریٹر داتا دربارکا اہم اقدام، شرائط کی خلاف ورزی پر حفاظت پاپوش کا ٹھیکہ منسوخ


















