لاہور (میاں ذیشان) مہنگائی کی نئی لہر نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی پہئے کو سست روی کا شکار کر دیا، ایندھن کی قیمتوں میں بے قابو اضافے سے ادارے کے مالیاتی توازن پر شدید دباﺅ، جاری منصوبوں کی تکمیل خطرے میں جبکہ عوامی سہولتوں کی فراہمی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مالی و انتظامی ڈھانچے کو شدید دباﺅ سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبہ جات کی رفتار ماند پڑنے کا خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے، ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کی جانب سے رواں مالی سال کے آغاز پر افسران کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں، فیلڈ سٹاف کی نقل و حرکت اور آپریشنل مشینری کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی مد میں تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، تاہم حالیہ اضافے کے بعد یہی اخراجات بڑھ کر تقریباً 1 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات میں کمی نہ کی گئی تو ادارے کو سالانہ بنیادوں پر کم از کم 25 سے 30 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھاری مشینری جیسے ٹرالیوں، کرینوں، کنکریٹ مکسرز اور دیگر تعمیراتی آلات کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس سے جاری منصوبوں کیلئے مختص فنڈز پر دباﺅ بڑھ گیا ہے اور بعض منصوبوں کے بجٹ میں ردوبدل کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی نقل و حرکت، انسپکشنز اور مانیٹرنگ کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے اخراجات میں اضافے کے باعث انتظامی امور چلانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر تعمیراتی میٹریل جیسے بجری، ریت اور سیمنٹ کی ترسیل پر بھی پڑتا ہے، جس کے باعث ٹھیکیداروں کے اخراجات بڑھنے سے کام کی رفتار سست ہونے یا منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایل ڈی اے کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے متبادل حکمت عملیوں پر غور کرنا چاہئے جن میں اخراجات میں کمی، وسائل کا بہتر استعمال اور ترجیحی بنیادوں پر منصوبوں کی تکمیل شامل ہے، تاہم موجودہ حالات میں ادارے کو مالی دباﺅ اور ترقیاتی اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) اینڈھن کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث ترقیاتی کام سست پڑنے کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق اور ترجمان اسامہ محمود سے بار ہا رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی وضاحت جاری نہ کی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی طاہر فاروق اگر اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ ”مشرق“ میںانکی وضاحت کو من و عن شائع کیا جائیگا۔
مہنگائی کی نئی لہر سے ایل ڈی اے ترقیاتی کام سست، مالیاتی توازن پر شدید دباﺅ


















