تہران (مشرق نیوز) ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے امکان پر غور کر رہا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ امریکہ کے آئندہ رویے کو دیکھ کر کیا جائیگا۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنے شہید رہنما علی خامنہ ای کے فتوے کے حوالے سے اپنے موقف پر اب بھی قائم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران اس وقت یہ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے این پی ٹی سے دستبردار ہونا چاہیے یا نہیں۔ انکے مطابق اس فیصلے کا انحصار امریکہ کے اقدامات اور رویے پر ہوگا۔
دوسری جانب ایران کے سکیورٹی چیف نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران حقیقی طور پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اور یمن کی جانب سے ایران سے مدد طلب کی گئی تو تہران دونوں فریقوں کے درمیان امن کے حصول میں مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
محسن رضائی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جبکہ یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع بھی علاقائی سلامتی کیلئے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔
ایران کی سعودی عرب اور یمن کو امن کی پیشکش،نیوکلیئر معاہدہ چھوڑنے پر بھی غور شروع



















