واشنگٹن (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا آئی ایم ایف سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی قسط جلد ملنے کی توقع ہے جبکہ پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں ،واشنگٹن میں عالمی میڈیا سے گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا فی الحال آئی ایم ایف کے پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں ، معاشی صورت حال میں کمزوری آئی تو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاسکتا ہے،بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور کہا پاکستان فنڈنگ کےلئے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، یورو بانڈ، سکوک اور کمرشل قرضوں پر کام جاری ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں،پاکستان پہلی بار 25 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہا ہے، پانڈا بانڈ پروگرام کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر تک ہوگا، اے ڈی بی اور ایشین انفرا اسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک کی سپورٹ ہوگی ، رواں مالی سال ترسیلات زر 41.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، رواں مالی سال شرح نمو تقریبا ً4 فیصد رہنے کا امکان ہے، مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث تیل مہنگا ہونے سے معیشت پر دباو¿ بڑھا پاکستان سٹرٹیجک پٹرولیم ذخائر بنانے پر بھی غور کر رہا ہے،سینیٹر اورنگزیب نے ایل پی جی اور ایندھن کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقلی کا عندیہ بھی دےدیا،وزیر خزانہ نے امریکہ میں آئی ایم ایف ڈائریکٹر جہاد اظہور اور پاکستان کےلئے آئی ایم ایف مشن ٹیم سے بھی ملاقاتیں کیں، امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری سے بھی ملے، سعودی فنڈ برائے ترقی کے سی ای او، ماسٹر کارڈ کے چیف گلوبل افیئرز سے بھی ملاقات کی،ملاقاتوں میں تجارت و سرمایہ کاری میں فروغ پر اتفاق کیا گیا ،سائبر سکیورٹی، سرحد پار مالی لین دین، ترسیلات زر سے متعلق امور زیر غور آئے،پاکستان میں گوگل دفتر کے قیام کو خوش آئند قرار دیدیا، پاکستان کےلئے سعودی فنڈ برائے ترقی کی مسلسل معاونت پر اظہار تشکر کیا جبکہ ترقیاتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ۔
آئی ایم ایف سے قسط جلد مل جائیگی،پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں: وزیر خزانہ



















