اسلام آباد:(بیورورپورٹ)مذاکرات کی گاڑی چل پڑی،حکومت کااپوزیشن سے براہ راست رابطہ،وفود کی ملاقات طے پاگئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہااپوزیشن اجلاس میں طے پانے والے فیصلے کی روشنی میںحکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام قبول کرلیا،حکومتی و اپوزیشن وفود کی جمعہ کو دن 12 بجے سپیکر قومی اسمبلی کے دفترمیں ملاقات ہوگی۔
ذرائع کے مطابق مشیر وزیراعظم رانا ثنانے عامر ڈوگر سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے مذاکرات کی خواہش کا اظہار اورحکومتی اجلاس و ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے کہامعاملات کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔
ادھر سینٹ میںاپوزیشن لیڈرعلامہ راجہ ناصر عباس نے کہابات چیت بغیر کسی شرط کے ہوگی، کسی شرط کی تلوار لٹکا کر مذاکرت نہیں ہو سکتے،خیبرپختونخوا سے آنے والا لانگ مارچ پر امن ہو گا، مخالفین سے بھی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن سب پاکستان کےلئے ہوگا۔
قبل ازیں اپوزیشن اتحاد کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، محمودا چکزئی ،علامہ راجہ ناصر عباس ودیگر رہنما ﺅں نے شرکت کی ،اجلاس میں لانگ مارچ ،حکومتی مذاکرات کی پیشکش سمیت اہم امور پر مشاورت کی گئی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہالانگ مارچ،کے پی میں گورنر راج،ایمرجنسی کی خبروں پر غور کیا گیا، بات کرنے کیلئے تیار ہیں،ریاست ،پاکستان کےساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ،سنا ہی نہیں،عوام کی مرضی کےخلاف کچھ کرتے ہیں تو وفاق کمزور ہوگا، بات پیپلز پارٹی کو بھی یاد کرائیں گے،سب سے پہلے پاکستان اور امن و امان ہے۔
محمود اچکزئی نے کہا وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملنے والے خط کا جواب دیں گے، ملاقات کےلئے وزیراعظم ہاوس نہیں جاوں گا، کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاوں گا۔
اپوزیشن لیڈر سینٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا جمہوری حکومت کبھی بھی فاشسٹ نہیں ہوسکتی وہ عوام سے محبت سے بات کرے گی مگر پاکستان کےساتھ انہونی ہو رہی ہے،پاکستان کے بڑے مسائل،امن و امان کی صورتحال ،معاشی حالات خراب ،عدلیہ و دیگر نظام تباہ ،گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا،لانگ مارچ کریں گے،پاکستان کو بحران سے نکالنے والا ایک ہی شخص عمران خان ہے،احتجاج پرامن ہوگا، پاکستان سب سے آگے ہونا چاہیے۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے 4اکتوبر کے لانگ مارچ کی منظوری دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میںلانگ مارچ، صوبائی حکومت کےخلاف وفاقی حکومت کے اقدام سمیت اہم امور زیر غور آئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے مارچ کا آغاز کریں گے،لانگ مارچ کئی ہفتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد میں داخل ، حتمی پڑا ﺅکا فیصلہ بعد میں ہوگا،صوبائی حکومت کےخلاف کسی بھی وفاقی اقدام کا عوامی طاقت سے جواب دیا جائے گا، ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورت میں گورنر ہاﺅس کے باہر دھرنا ہوگا،ممکنہ وفاقی اقدام کےخلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے قانونی ٹیم تشکیل دینے کی منظوری بھی دےدی گئی۔
مذاکراتی گاڑی چل پڑی،حکومت کااپوزیشن سے رابطہ،وفود کی ملاقات طے



















