100 سے زائد مسافر ٹرینیں خسارے کا شکار، ریلوے کو سالانہ اربوں کا نقصان

لاہور (قمر عباس نقوی) پاکستان ریلوے کی مجموعی طور پر 100 سے زائد مسافر ٹرینوں میں سے متعدد مالی خسارے کا شکار جس کے باعث ادارے کو سالانہ اربوں روپے کے مالی دباو کا سامنا ہے جبکہ خسارے میں چلنے والی ٹرینوں کو آوٹ سورس کرنے، روٹس تبدیل کرنے اور بعض سروسز بند کرنے جیسے اقدامات پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ریلوے کے سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے اس وقت تقریباً 100 سے 106 مسافر ٹرینیں چلا رہا ہے جن میں ایکسپریس، میل، انٹر سٹی، ریل کار اور شٹل سروسز شامل ہیں تاہم ان میں سے ایک بڑی تعداد آمدنی سے زیادہ اخراجات کا باعث بن رہی ہے خسارے میں چلنے والی نمایاں ٹرینوں میں لالہ موسیٰ پاک ایکسپریس (ملتان، لاہور)، پنڈ دادنخان شٹل، مختلف ریل کار سروسز اور دیگر برانچ لائن ٹرینیں شامل ہیں جہاں مسافروں کی کم تعداد کے باعث آمدنی انتہائی محدود ہے۔ ذرائع کے مطابق مالی خسارہ کم کرنے کیلئے ریلوے نے متعدد ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جن میں سبک رفتار، سبک خرام، مارگلہ ایکسپریس، راول ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، بہاوالدین زکریا ایکسپریس، موہنجوداڑو ایکسپریس اور تھل ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینیں شامل تھیں تاہم بعض ٹرینوں کیلئے نجی کمپنیوں کی جانب سے عدم دلچسپی اور تکنیکی وجوہات کے باعث عمل مکمل نہ ہو سکا جس کے بعد ریلوے نے محدود پیمانے پر دوبارہ آو¿ٹ سورسنگ کا عمل شروع کیا ہے۔ ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ برانچ لائن سیکشنز جیسے ملکوال پنڈ دادن خان، شورکوٹ ، جھنگ اور دیگر کم آمدنی والے روٹس پر چلنے والی ٹرینیں مسلسل خسارے میں ہیں کیونکہ ان ٹرینوں کی آمدنی ایندھن، مرمت اور عملے کے اخراجات کو پورا نہیں کر پا رہی۔ ذرائع کے مطابق بعض ریل کار اور شٹل ٹرینیں روزانہ لاکھوں روپے خرچ کر کے چند ہزار روپے کی آمدنی حاصل کر رہی ہیں خسارے کی بڑی وجوہات میں کم کرائے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، پرانے انجنوں اور کوچز کی مرمت پر بھاری اخراجات، بغیر ٹکٹ سفر اور ریلوے کے انتظامی اخراجات شامل ہیں ریلوے نے خسارہ کم کرنے کیلئے آو¿ٹ سورسنگ کے علاوہ کرایوں میں ردوبدل، ڈیجیٹل ٹکٹنگ نظام، ٹرین آپریشن میں اصلاحات اور کم آمدنی والے روٹس کا ازسرنو جائزہ لینے جیسے اقدامات بھی شروع کیے ہیں ذرائع کے مطابق اگر یہ اقدامات کامیاب نہ ہوئے تو مستقبل میں مزید خسارے میں چلنے والی ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے یا بند کرنے جیسے فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عوامی ضرورت اور سفری سہولت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا پاکستان ریلویز نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں روزانہ تقریباً 106 مسافر ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں جو مختلف شہروں کو جوڑیں گی اور مسافروں کو زیادہ سہولت فراہم کریں گی۔ ان ٹرینوں میں میل ایکسپریس اور پسنجر سروسز شامل ہیں، جو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ملک کے اہم شہروں کو کور کرتی ہیںاہم اور مشہور ٹرینوں میں کراچی سے لاہور کیلئے قراقرم ، گرین لائن ،شاہ حسین ،تیز گام ،پاکستان ایکسپریس شامل ہیں کراچی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کیلئے اسلام آباد ایکسپریس ،رحمن با ابا ایکسپریس اور خیبر میل چلتی ہیں۔ لاہور سے فیصل آباد اور ملتان کیلئے چنا ب ایکسپریس ،تھل ایکسپریس اور راوی ایکسپریس دستیاب ہیں۔ پشاور سے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان جعفر ایکسپریس ، بولان میل ،خوشخال خان ہٹک ا یکسپریس چلتی ہیں سندھ میں منجھو دہرو ،ماروی پسنجر سکر ایکسپریس خدمات فراہم کر رہی ہیں جبکہ بلوچستان میں کوئٹہ اور چمن ٹرینیں فعال ہیں ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز نے گزشتہ سال مزید 10 نئی ٹرینیں بھی شامل کی ہیں، جس سے مسافر نیٹ ورک میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق، 2026 تک ملک بھر میں تقریباً 106 ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ شہروں کو براہِ راست جوڑا جا سکے اور ریل کے ذریعے سفر کی سہولت کو بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافر ٹرینیں ریلویز کو آمدنی دے رہی ہیں، اس وقت 100سے 106ٹرینیں مختلف روٹس پر فعال ہیں موجودہ سی ای او کی تعیناتی سے آج تک آمدنی میں بہتری آئی ہے۔