خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی، سرمایہ کار محتاط

لاہور(کامرس رپورٹر) ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر براہِ راست پڑنے کا امکان ہے۔عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید شدت آئی یا آبنائے ہرمز کی ترسیل متاثر ہوئی تو قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اسلئے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا اثر فوری طور پر مقامی پٹرولیم مصنوعات پر پڑتا ہے۔ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی غیر یقینی صورتحال کے باعث مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے شیئرز فروخت کرنا شروع کر دئیے ہیں جس کے باعث انڈیکس دباو کا شکار ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق توانائی، سیمنٹ، ٹرانسپورٹ اور درآمدی خام مال پر انحصار کرنے والی صنعتوں کے حصص زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ تیل و گیس کے شعبے کو جزوی فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ماہرِ معاشیات ڈاکٹر خرم شہزاد کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا سب سے بڑا اثر توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے، اور توانائی مہنگی ہونے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو آئندہ مہینوں میں افراطِ زر کی رفتار دوبارہ تیز ہو سکتی ہے۔سابق مشیرِ خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی مہنگائی کے دباو سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ روپے پر دباو بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق درآمدی بل میں اضافہ ہوگا تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی متاثر ہو سکتا ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی اور مزید مہنگائی کا خدشہ پیدا ہوگا۔مالیاتی ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کرایوں، بجلی کی پیداواری لاگت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بالواسطہ اضافہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر سبزی، پھل، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی اشیاءکی ترسیل مہنگی ہونے سے عام آدمی پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی صورتحال طویل ہو گئی تو مانیٹری پالیسی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ مہنگائی بڑھنے کی صورت میں شرح سود کم کرنے کا عمل سست ہو سکتا ہے یا پالیسی سخت رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا جا سکتا ہے تاکہ افراط زر کو قابو میں رکھا جا سکے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی محدود رہتی ہے یا باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اگر سفارتی سطح پر معاملات سنبھل گئے تو مارکیٹس بتدریج مستحکم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر تنازع پھیلتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور اسٹاک مارکیٹ میں دباو برقرار رہنے کا امکان ہے۔مجموعی طور پر ماہرین کا اتفاق ہے کہ آنے والے ہفتے معیشت کیلئے اہم ہوں گے۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔ حکومت کیلئے چیلنج ہوگا کہ وہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے متوازن پالیسی اختیار کرے۔