لاہور(نمائندہ خصوصی/کامرس رپورٹر)لاہور میں نئے تعینات چینی قونصل جنرل سن یان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سی پیک 2.0 کے تحت تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس میں صنعت، زراعت اور معدنیات جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ چینی زبان سیکھنے والے افراد مستقبل میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔جیسے جیسے چین پاکستان اقتصادی راہداری آگے بڑھے گی، ویسے ویسے ایسے افراد کی ضرورت بڑھے گی جو چینی زبان اور ثقافت کو سمجھتے ہوں کیونکہ زبان دونوں ممالک کے درمیان بہتر رابطے اور کاروباری تعاون کا ذریعہ ہے۔وہ لاہور چیمبر میں کاروباری برادری کیلئے منعقد کیے گئے تین ماہ کے چینی زبان کے کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے چینی قونصل جنرل سن یان اور کمرشل قونصل لی ہاوٹینگ کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر نائب صدر خرم لودھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔اپنے خطاب میں فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ ہے اور ہر مشکل وقت میں مضبوط رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک تاریخی منصوبہ ہے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں تک وسعت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، تاہم دوطرفہ تجارت میں عدم توازن موجود ہے۔ پاکستان کی برآمدات تقریباً 2.5 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 16.3 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جسے کم کرنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی قونصلیٹ کے تعاون سے پاکستانی برآمدکنندگان چینی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، معدنیات، سمندری خوراک، سرجیکل آلات، سپورٹس گڈز، ٹیکسٹائل، لیدر اور آئی ٹی کے شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، الیکٹرک وہیکلز اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں، جبکہ سی پیک کے تحت قائم خصوصی اقتصادی زونز چینی سرمایہ کاروں کیلئے اہم پلیٹ فارم ہیں۔فہیم الرحمن سہگل نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے، اور پائیدار ترقی کیلئے امن اور استحکام ضروری ہے۔انہوں نے لاہور میں چینی قونصلیٹ کے تعاون کو سراہا، خاص طور پر چینی زبان کے کورسز کے انعقاد پر، جو کاروباری افراد کو چینی مارکیٹ اور کاروباری ماحول کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔نائب صدر خرم لودھی نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ چینی زبان سیکھنے سے تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چینی قونصل جنرل سن یان نے کورس مکمل کرنے والے شرکاءکو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے اور خنجراب پاس جیسے منصوبے تجارت اور رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے لاہور چیمبر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔
پاکستان کے ساتھ سی پیک تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے: چینی قونصل جنرل



















